کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مساجد تعمیر کرنا
حدیث نمبر: 1935
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا أَوْسَعَ مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُتَكَلَّمٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اس سے زیادہ بڑا گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1936
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ : جَاءَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَنَحْنُ نَبْنِي مَسْجِدَنَا قَالَ : فَوَقَفَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ بَنَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
بشر بن حیان بیان کرتے ہیں : سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہم اس وقت اپنی مسجد تعمیر کر رہے تھے وہ ہمارے پاس آ کر ٹھہر گئے انہوں نے ہمیں سلام کیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسجد بناتا ہے ، اور اس میں نماز ادا کرتا ہے ، تو اللہ تعالی اس شخص کے لئے جنت میں اس سے زیادہ فضیلت والا گھر بنا دیتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن یحیی خشنی ہے ، اسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے دحیم اور ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1937
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ لِبَيْضِهَا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر مسجد بناتا ہے خواہ وہ قطاۃ پرندے کے ( اپنے انڈے کے لئے کھودے جانے والے ) گڑھے جتنی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1938
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا قَدْرَ مَفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قطاة پرندے کے ( اپنے انڈے کے لئے ) کھودے جانے والے گڑھے جتنی مسجد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1938
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1939
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ" ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” خواہ وہ قطاۃ پرندے کے گڑھے جتنی ہو “ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1939
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1940
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى بَيْتًا يُعْبَدُ اللَّهُ فِيهِ مِنْ مَالٍ حَلَالٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ خَلَا قَوْلَهُ : " مِنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ " ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص حلال مال میں سے ایسا گھر بناتا ہے ، جس میں اللہ تعالی کی عبادت کی جائے تو اللہ تعالی اس شخص کے لئے جنت میں قیمتی پتھر اور یاقوت کا گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ” قیمتی پتھر اور یاقوت “ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد ، 5162 شعب الإيمان للبيهقى فصل المشى إلى المساجد ، حديث 2802»
حدیث نمبر: 1941
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " قُلْتُ : وَهَذِهِ الْمَسَاجِدُ الَّتِي فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ؟ قَالَ : " وَتِلْكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعَّفَهُ الْعَقِيلِيُّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا “ ۔ رادی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ جو مکہ کے راستے میں مساجد آتی ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ بھی ( اس کے حکم میں شامل ہوں گی ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبدالرحمن ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1942
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا لَا يُرِيدُ بِهِ رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے ، اور اس کا ارادہ اس کے ذریعے ریاکاری یا دکھاوا نہ ہو ، تو اللہ تعالی اس شخص کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے یحیی القطان نے اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1942
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1943
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وہب بن حفص ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1944
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1945
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يَرَاهُ اللَّهُ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، فَإِنْ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ غَفَرَ لَهُ ، وَمَنْ حَفَرَ قَبْرًا يَرَاهُ اللَّهُ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ غَفَرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ وَقَالَ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ أَيْضًا ، وَذَكَرَهَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَسَمَّى أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ مُكَبَّرًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد تعمیر کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے اگر اس شخص کا اسی دن انتقال ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے قبر کھودتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ، اور اگر وہ شخص اسی دن انتقال کر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن عبداللہ ہے وہ ابن عبیداللہ ہے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ اپنی تاریخ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس کے بارے میں غور و فکر کی گنجائش ہے یحیی بن معین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس کے باپ کا نام عبداللہ مکبر بیان کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1945
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1946
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ [ بَيْتًا ] فِي الْجَنَّةِ أَوْسَعَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اس سے زیادہ کشادہ گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1947
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : " فَإِنَّ اللَّهَ يَبْنِي لَهُ بَيْتًا أَوْسَعَ مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ " . وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں امام أحمد کے الفاظ یہ ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ، جو اس ( مسجد ) سے زیادہ کشادہ ہوتا ہے “ ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1947
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1948
وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نُبَيْطٍ كَذَّبَهُ صَاحِبُ الْمِيزَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے استاد أحمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبیط کو ” میزان “ کے مصنف نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1948
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس کا راوی احمد بن اسحاق کذاب
حدیث نمبر: 1949
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ابْنُوا الْمَسَاجِدَ وَأَخْرِجُوا الْقُمَامَةَ مِنْهَا ، فَمَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَذِهِ الْمَسَاجِدُ الَّتِي تُبْنَى فِي الطَّرِيقِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِخْرَاجُ الْقُمَامَةِ مِنْهَا مُهُورُ الْحُورِ الْعِينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقر صافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ مساجد بناؤ اور اس میں سے کوڑا کرکٹ نکال دو جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالٰی اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مساجد جو راستے میں بنائی جاتی ہیں ( ان کا بھی یہی حکم ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور مسجد سے کوڑا کرکٹ کو نکالنا حورعین کا مہر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1949
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1950
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ إِلَى بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمْ قَالَ : فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ فَظَنَنْتُ أَنَّهَا شَقَّتْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ : نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ اینٹیں اٹھا کر مسجد کی تعمیر کے لئے لا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں اللہ کے رسول کے سامنے آیا تو آپ نے اپنے پیٹ پر اینٹ باندھی ہوئی تھی میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ آپ کو گراں گزر رہی ہے میں نے عرض کی : یہ آپ مجھے پکڑا دیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اور ( اینٹ ) پکڑ لو کیونکہ زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابى بريرة رضى الله عنه 8770 .»
حدیث نمبر: 1951
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : بَنَيْتُ الْمَسْجِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَقُولُ : " قَرِّبِ الْيَمَامِيَّ إِلَى الطِّينِ فَإِنَّهُ أَحْسَنُكُمْ لَهُ مَسًّا وَأَشَدُّكُمْ مَنْكِبًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد تعمیر کر رہا تھا آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے یمامی کو مٹی کے قریب کر دو کیونکہ یہ اس کو چھونے کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، اور سب سے زیادہ مضبوط کندھے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1952
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ ، قَالَ : فَكَأَنَّهُ لَمْ يُعْجِبْهُ عَمَلُهُمْ قَالَ : فَأَخَذْتُ الْمِسْحَاةَ فَخَلَطْتُ بِهَا الطِّينَ قَالَ : فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ أَخْذِي الْمِسْحَاةَ وَعَمَلِي فَقَالَ : " دَعُوا الْحَنَفِيَّ وَالطِّينَ فَإِنَّهُ أَضْبَطُكُمْ لِلطِّينِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَاخْتُلِفَ فِي ثِقَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے اصحاب میں تعمیر کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : یوں ظاہر ہوا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا کام پسند نہیں آیا راوی کہتے ہیں : میں نے پھاؤڑا پکڑا اور میں نے اس کی مٹی بنانی شروع کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا پھاؤڑا پکڑنا اور میرا کام پسند آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حنفی کو مٹی والا کام کرنے دو کیونکہ یہ تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر مٹی تیار کر رہا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جس کے ” ثقہ “ ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1953
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُؤَسِّسُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَجَعَلْتُ أَحْمِلُ الْحِجَارَةَ كَمَا يَحْمِلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ يَا أَهْلَ الْيَمَامَةِ أَحَذَقُ شَيْءٍ بِأَخْلَاطِ الطِّينِ ، فَاخْلِطْ لَنَا الطِّينَ " فَكُنْتُ أَخْلِطُ لَهُمُ الطِّينَ وَيَحْمِلُونَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ مسجد نبوی کی بنیادیں رکھ رہے تھے میں نے پتھر اٹھانا شروع کیا جس طرح لوگ اٹھا رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اہل یمامہ تم لوگ گیلی مٹی اچھی تیار کرتے ہو ، تو تم ہمیں مٹی تیار کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے ان لوگوں کے لئے مٹی تیار کرنا شروع کی اور وہ لوگ اسے اٹھاتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر یمامی ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1954
وَعَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَعْرُورِ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنَى هَذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْيَسْجُدْ أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ ، وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ : صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَسَيَّارٌ مَجْهُولٌ وَقِيلَ فِيهِ : مَغْرُورٌ بِالْمُعْجَمَةِ وَالْمُهْمَلَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیار بن معرور بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ مسجد تعمیر کر رہے تھے ہم لوگ یعنی مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے جب ہجوم زیادہ ہو ، تو کوئی شخص اپنے بھائی کی پشت پر سجدہ کر لے آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ راستے میں نماز ادا کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا : تم لوگ مسجد میں نماز ادا کرو ۔
“ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سیار نامی راوی مجہول ہے ، اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس کا ( یعنی اس کے باپ کا ) نام مغرور ہے ، جو غین کے ساتھ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1954
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1955
وَعَنْ الْقَاسِمِ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَوَّلُ مَنِ اقْتَبَسَ الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَوَّلُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ يُصَلَّى فِيهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ بِلَالٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْجِهَادِ فِي الرَّمْيِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کے رسول کی زبانی جس شخص نے سب سے پہلے قرآن کا علم حاصل کیا وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، اور جس شخص نے سب سے پہلے مسجد بنائی جس میں نماز ادا کی جائے وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور سب سے پہلے اذان دینے والے شخص سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث مکمل روایت کے طور پر جہاد سے متعلق باب میں تیراندازی سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1955
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
حدیث نمبر: 1956
وَعَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَتِ امْرَأَتُهُ جَعَلَ يَقُولُ : احْمِلُوهَا وَارْغَبُوا فِي حَمْلِهَا ؛ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ وَمَوَالِيهَا بِاللَّيْلِ حِجَارَةَ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، وَكُنَّا نَحْمِلُ بِالنَّهَارِ حَجَرَيْنِ حَجَرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا اسے اٹھاؤ اور اسے اٹھانے میں دلچسپی رکھو کیونکہ یہ اور اس کی کنیزیں رات کے وقت اس مسجد سے پتھر اٹھایا کرتی تھیں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ، اور ہم لوگ دن کے وقت دو دو پتھر اٹھایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1956
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف