حدیث نمبر: 1950
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ إِلَى بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمْ قَالَ : فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ فَظَنَنْتُ أَنَّهَا شَقَّتْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ : نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ اینٹیں اٹھا کر مسجد کی تعمیر کے لئے لا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں اللہ کے رسول کے سامنے آیا تو آپ نے اپنے پیٹ پر اینٹ باندھی ہوئی تھی میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ آپ کو گراں گزر رہی ہے میں نے عرض کی : یہ آپ مجھے پکڑا دیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اور ( اینٹ ) پکڑ لو کیونکہ زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابى بريرة رضى الله عنه 8770 .»