مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ . باب: مساجد تعمیر کرنا
حدیث نمبر: 1949
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ابْنُوا الْمَسَاجِدَ وَأَخْرِجُوا الْقُمَامَةَ مِنْهَا ، فَمَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَذِهِ الْمَسَاجِدُ الَّتِي تُبْنَى فِي الطَّرِيقِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِخْرَاجُ الْقُمَامَةِ مِنْهَا مُهُورُ الْحُورِ الْعِينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوقر صافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ مساجد بناؤ اور اس میں سے کوڑا کرکٹ نکال دو جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ تعالٰی اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مساجد جو راستے میں بنائی جاتی ہیں ( ان کا بھی یہی حکم ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور مسجد سے کوڑا کرکٹ کو نکالنا حورعین کا مہر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہے ۔