حدیث نمبر: 193
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " . قَالَ : أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدُ الْمُقِلِّ " . قَالَ : أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ ، اخْتُلِفَ فِي ثِقَتِهِ وَضَعْفِهِ ، وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا بَعْدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمیر بن قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طویل قیام والی ، اُس نے دریافت کیا : کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تنگ دست کا محنت کر کے ( دیا جانے والا صدقہ ) اس شخص نے دریافت کیا : اہل ایمان میں ، سب سے زیادہ کامل ایمان کس کا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ، جس کے ثقہ یا ضعیف ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس کے بعد بھی ، اُس کے حوالے سے کچھ احادیث آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 48/17 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2106»