وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَغْضَبَ لِلَّهِ ، وَيَرْضَى لِلَّهِ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَحَقَّ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ ، وَإِنَّ أَحْبَابِي وَأَوْلِيَائِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي ، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ ، ایمان کی حقیقت کا حقدار ، اُس وقت تک نہیں ہوتا ، جب تک وہ اللہ تعالٰی کے لئے غضب ناک نہیں ہوتا ، اور اللہ تعالٰی کے لئے راضی نہیں ہوتا ، جب وہ ایسا کر لیتا ہے ، تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق بن جاتا ہے ( اللہ تعالٰی حدیث قدسی میں فرماتا ہے : ) ” میرے محبوب بندے اور میرے ولی وہ ہیں ، جن کا ذکر ، میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے ، اور میرا ذکر ، اُن کے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔