حدیث نمبر: 1916
وَعَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ : مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فِي مَسْجِدِ بَنِي ثَعْلَبَةَ فَقَالَ : أَصَلَّيْتُمْ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : نَعَمْ وَذَلِكَ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ حَبِيبِ بْنِ سِبَاعٍ فِي بَابٍ فِيمَنْ صَلَّى صَلَاةً وَعَلَيْهِ غَيْرُهَا . ¤
محمد محی الدین

جعد ابوعثمان بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بنو ثعلبہ کی مسجد میں ہمارے پاس سے گزرے انہوں نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : یہ صبح کی نماز کا واقعہ ہے پھر انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا ۔ اس نے اذان دی اور اقامت کہی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام ابویعلی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حبیب بن سباع کی نقل کردہ حدیث ، اس باب میں گزر چکی ہے ، جس میں اس شخص کا بیان ہے ، جو نماز ادا کرتا ہے ، اور اس کے ذمہ کوئی دوسری نماز بھی لازم ہوتی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل۔