مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّأْذِينِ لِلْفَوَائِتِ وَتَرْتِيبِهَا . باب: فوت شدہ نمازوں کے لئے اذان دینا اور انہیں ترتیب کے ساتھ ادا کرنا
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شُغِلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ غَيْرُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر ( جنگ میں ) مصروفیت کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر ، عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا نہیں کر سکے ( جب آپ اس سے فارغ ہوئے ) تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ نے عشاء کی نماز ادا کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس وقت روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے ، جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔