مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران اذان دینا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَاحِلَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، فَلَمَّا بَرَزَ سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ ، فَلَمَّا قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ; قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَهِدَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ شَهَادَةَ الْحَقِّ " ، فَلَمَّا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; قَالَ : " نَرَى هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ خَرَجَ مِنَ النَّارِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا صَاحِبُ كِلَابٍ " فَذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَوَجَدُوهُ كَذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا زید بن ثابت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے جب آپ آبادی سے باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور غور سے سننے لگے جب اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اس نے حق والی گواہی دی ہے ، جب اس نے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے بارے میں میں یہ سمجھتا ہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ جہنم سے نکل گیا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کتوں والا شخص ہو گا ( جو شکار کے لئے نکلا ہو گا ) ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گئے تو انہوں نے اس شخص کو ایسا ہی پایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔