حدیث نمبر: 18745
وَفِي رِوَايَةٍ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ : ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " . فَقَالَ الْيَهُودُ : تَزْعُمُ أَنَّ فِي الْجَنَّةِ طَعَامًا ، وَشَرَابًا ، وَأَزْوَاجًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ تُؤْمِنُ بِشَجَرَةِ الْمِسْكِ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتَجِدُهَا فِي كِتَابِكُمْ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ الْبَوْلَ وَالْجَنَابَةَ عَرَقٌ يَسِيلُ مِنْ تَحْتِ ذَوَائِبِهِمْ إِلَى أَقْدَامِهِمْ مِسْكًا " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ؟ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، جس کا نام ثعلبہ بن حارث تھا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پر سلام ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر بھی ہو ، یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کا یہ کہنا ہے ، جنت میں کھانا پینا اور بیویاں ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم مشک کے درخت پر ایمان رکھتے ہو ؟ اس نے کہا: جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر پایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو پیشاب اور جنابت پینے کی شکل میں ہوں گے ، جو ان کے بالوں کے نیچے سے لے کر قدموں تک بہے گا اور مشک کی طرح ( خوشبودار ہو گا ) ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، یہ روایت امام أحمد نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص نے کہا: اے ابوالقاسم ! کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے : اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، اس نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہا: تھا کہ اگر انہوں نے میرے سامنے اس بات کا اقرار کر لیا ، تو پھر میں ان کے ساتھ بحث کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے أحمد اور بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ثمامہ بن عقبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح