مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَكْلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَشُرْبِهِمْ ، وَشَهَوَاتِهِمْ . باب: اہل جنت کا کھانا پینا اور ان کی شہوت
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ ، وَالشُّرْبِ ، وَالشَّهْوَةِ ، وَالْجِمَاعِ " . فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، وَالْجَنَّةُ مُطَهَّرَةٌ ، قَالَ : حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ كَرِيحِ الْمِسْكِ ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ " . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابوالقاسم ! آپ کا یہ کہنا ہے کہ اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( جنت میں ہر ) شخص کو کھانے پینے شہوت اور صحبت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے ایک سو افراد کے جتنی قوت دی جائے گی ۔ اس یہودی نے کہا: جو شخص کچھ کھاتا ہے یا پیتا ہے ، اُسے قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے ، اور جنت تو پاک صاف ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جنت میں ) کسی شخص کی قضائے حاجت پسینے کی شکل میں ہو گی ، جو اس کی جلد میں سے بہہ جائے گا اور مشک کی خوشبو کی مانند ہو گا اور پھر اس کا پیٹ ہلکا پھلکا ہو جائے گا ۔