مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ لِلثَّانِي : " نَعَمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْحَرَشِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے سامنے مختلف اُمتوں کو پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” تو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں ان میں سے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں دوسرے فرد کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے الفاظ ہیں : جی ہاں !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن موسیٰ حرشی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔