مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَامَتْ ثُلَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَسُدُّونَ الْأُفُقَ ، نُورُهُمْ كَالشَّمْسِ ، فَيُقَالُ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، ثُمَّ تَقُومُ ثُلَّةٌ أُخْرَى تَسُدُّ مَا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ ، نُورُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، ثُمَّ تَقُومُ ثُلَّةٌ أُخْرَى تَسُدُّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ ، نُورُهُمْ مِثْلُ كُلِّ كَوْكَبِ الشَّمْسِ ، فَيُقَالُ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ [ فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتَهُ ] ، ثُمَّ يَحْثِي حَثْيَتَيْنِ فَيُقَالُ : هَذَا لَكَ يَا مُحَمَّدُ ، وَهَذَا مِنِّي لَكَ يَا مُحَمَّدُ ، ثُمَّ يُوضَعُ الْمِيزَانُ وَيُؤْخَذُ فِي الْحِسَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو گا ، وہ افق کو بھر دیں گے ، ان کا نور سورج کی مانند ہو گا ، تو کہا: جائے گا : اُمی نبی ، ہر نبی اس گروہ کے لئے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت ، پھر ایک اور گروہ کھڑا ہو گا ، جو دو افقوں کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا ، اُن کا نور چودہویں رات کے چاند کی مانند ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی اس کے لئے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اور ان کی امت ، پھر تیسرا گروہ کھڑا ہو گا ، جو افق کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا ، ان کا نور آسمان میں موجود ہر ستارے کی مانند ہو گا ، تو کہا: جائے گا : اُمی نبی ، ہر نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت ، پھر وہ ( یعنی پروردگار ) دو لپ بنائے گا ( یعنی اُن کو بھرے گا ) اور یہ کہا: جائے گا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ تمہارے لیے ، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ میری طرف سے تمہارے لئے ہے ، پھر میزان رکھا جائے گا اور حساب شروع ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔