مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والوں کی کثرت کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ ، فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْنِي ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى ، كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَوَلَّى عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا ، مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ( یعنی اس امت کا ہر فرد جنت میں داخل ہو جائے گا ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس میں صرف انتہائی بدنصیب ہی جائے گا ۔ “ یعنی وہ شخص اس چیز کی تکذیب کرے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور اس سے منہ پھیر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔