مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والوں کی کثرت کا بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ الدُّؤَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤علی بن خالد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا ، خالد نے ان سے اس سب سے زیادہ نرم بات کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : خبردار ! تم سب جنت میں داخل ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے جیسے اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد دؤلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔