حدیث نمبر: 18665
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " آخِرُ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنَ النَّارِ يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، وَهُوَ أَشَدُّ حَسْرَةً . ¤ وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ " . قَالَ : " فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثِمَارِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ، ثُمَّ يَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى ، وَأَغْدَقُ مَاءً ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَأَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا [ وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ] ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟[ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ] فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ،[ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ] ثُمَّ يَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ ، هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، وَأَغْدَقُ مَاءً ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، هَذِهِ [ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَ ] أَقِرَّنِي تَحْتَهَا [ فَأَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُّ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدُنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ] ، فَيُدْنِيهِ تَحْتَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَلَّا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا . فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَا يَتَمَالَكُ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : سَلْ وَتَمَنَّ ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا ، وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى ، فَإِذَا فَرَغَ قَالَ : [ ابْنَ آدَمَ ] لَكَ مَا سَأَلْتَ " . ¤ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : " وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ " . فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ ، وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : " وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ " . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری دو آدمی جو جہنم سے نکلیں گے ، اللہ تعالیٰ اُن دونوں میں سے ایک سے فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی ؟ کیا تم نے مجھ سے کوئی امید رکھی ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! اے میرے پروردگار ! تو اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا اور اہل جہنم میں وہ سب سے زیادہ شدید حسرت کا شکار ہو گا ، اللہ تعالیٰ دوسرے شخص سے دریافت کرے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کا کام کیا ؟ کیا تم نے مجھ سے کوئی امید رکھی ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں اے میرے پروردگار ! ( میں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ) تاہم میں تجھ سے امید رکھتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس شخص کے سامنے ایک درخت آئے گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے نیچے ٹھہرا دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پھل کو کھاؤں اور اس کے پانی کو پی لوں ، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کرتا رہے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے نیچے ٹھہرا دے گا ، پھر اس کے سامنے ایک اور درخت آئے گا ، جو پہلے والے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا اور اس کا پانی زیادہ میٹھا ہو گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس ( دوسرے والے ) درخت کے نیچے ٹھہرا دے ، میں تجھ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا ، میں اس کے سائے میں آ جاؤں گا اور اس کے پھل کو کھاؤں گا اور اس کے پانی کو پی لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! کیا تم نے میرے ساتھ یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں اب اس کے علاوہ تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے نیچے ٹھہرا دے گا ، اور اس سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا ، پھر اس شخص کے سامنے جنت کے دروازے کے قریب ایک درخت آئے گا ، جو پہلے والے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا اور اس کا پانی زیادہ میٹھا ہو گا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے اس کے علاوہ نہیں مانگوں گا ، تو مجھے اس کے نیچے ٹھہرا دے ، تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پھل کو کھاؤں اور اس کے پانی کو پیوں ، تو پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! کیا تم نے مجھ سے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے ، تو وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس درخت کے نیچے کر دے گا اور اس سے یہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا ، وہ شخص اہل جنت کی آوازیں سنے گا ، تو اسے خود پر ق ابونہیں رہے گا اور وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت میں داخل کر دے ! ( جب وہ شخص جنت میں داخل ہو جائے گا تو پروردگار فرمائے گا تم مانگو ! اور تمنا کرو ! وہ شخص دنیا کے دنوں کے حساب سے تین دن تک مانگتا رہے گا اور تمنا کرتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ان چیزوں کے بارے میں بھی تلقین کرے گا ، جن کے بارے میں اسے علم بھی نہیں تھا ، وہ مانگے گا اور تمنا کرے گا ، جب وہ فارغ ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے جو مانگا وہ تمہیں ملا ! سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید ملا ۔ “ جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید دس گنا ملا ۔ “ ان دونوں میں سے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا: آپ وہ بیان کریں جو آپ نے سنا ہے اور میں وہ بیان کروں گا ، جو میں نے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کی مانند دس گنا ۔ “ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اس کی مانند الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3555) اخرجه احمد فى المسند (70/3)»