مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابُهُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ : " لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، مِلَاطُهَا الْمِسْكُ ، تُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ ، حَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لِرِجَالِهِ . باب: جنت کی تعمیر اور اس کی صفت کا تذکرہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَحْيَا فِيهَا وَلَا يَمُوتُ ، وَيَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ : " لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، مِلَاطُهَا الْمِسْكُ ، تُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ ، حَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لِرِجَالِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ اُس میں زندہ رہے گا اسے موت نہیں آئے گی ، وہ نعمتوں میں رہے گا ، وہ مایوس نہیں ہو گا ، اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے ، اس کی جوانی ختم نہیں ہو گی ۔ “ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی تعمیر کس چیز سے ہوئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک اینٹ سونے کی ہے ، ایک اینٹ چاندی کی ہے اور اس کا گارا مشک کا ہے اور اس کی مٹی زعفران کی ہے اور اس کی کنکریاں موتیوں اور یاقوت کی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جس کے رجال کو امام ترمذی نے حسن قرار دیا ہے ۔