مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُلُودِ لِأَهْلِ النَّارِ فِي النَّارِ ، وَأَهْلِ الْإِيمَانِ فِي الْجَنَّةِ . باب: اہل جہنم کا ، جہنم میں اور اہل ایمان کا جنت میں ہمیشہ رہنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِنَّ أَهْلُ النَّارِ يَدْعُونَ مَالِكًا فَلَا يُجِيبُهُمْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ . ثُمَّ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ، فَلَا يُجِيبُهُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا ، ثُمَّ يَقُولُ : اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ . ثُمَّ يَيْأَسُ الْقَوْمُ فَمَا هُوَ إِلَّا الزَّفِيرُ ، وَالشَّهِيقُ تُشْبِهُ أَصْوَاتُهُمْ أَصْوَاتَ الْحَمِيرِ ، أَوَّلُهَا شَهِيقٌ وَآخِرُهَا زَفِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اہل جہنم ( جہنم کے داروغہ ) ” مالک “ کو پکاریں گے ، وہ چالیس سال تک انہیں جواب نہیں دے گا ، پھر وہ کہے گا : ” تم اس میں رہو گے “ پھر وہ ( یعنی اہل جہنم ) اپنے پروردگار کو پکاریں گے اور یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں اس سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ ایسا کیا تو ہم ظالم ہوں گے ۔ “ تو پروردگار انہیں جواب نہیں دے گا ، پھر وہ فرمائے گا : ” تم اس میں رسوا ہو کر رہو ، اور تم میرے ساتھ کلام نہ کرو ۔ “ پھر وہ لوگ مایوس ہو جائیں گے اور پھر صرف چیخ و پکار کے آغاز والی ، اور انتہائی ناپسندیدہ آواز ہو گی اور ان کی آواز گدھے کی آواز کے ساتھ مشابہت رکھتی ہو گی ، جس کا ابتدائی حصہ گھٹا گھٹا ہوتا ہے اور اختتامی حصہ انتہائی ناپسندیدہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔