حدیث نمبر: 18634
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ يُخْبِرُكُمْ " أَنَّ الْمَرَدَّ إِلَى اللَّهِ ، إِلَى جَنَّةٍ أَوْ نَارٍ ، خُلُودٌ بِلَا مَوْتٍ ، وَإِقَامَةٌ بِلَا ظَعْنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ فِيهِ : " فِي أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ " . وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سَابِطٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤ قُلْتُ : الَّذِي سَقَطَ بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ كَمَا رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ ، وَفِي طَرِيقِهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَقَالَ عَقِبَهُ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ رِوَاتَهُ مَكْنُونٍ ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِيِّ إِمَامِ أَهْلِ مَكَّةَ وَمُفْتِيهِمْ ، إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ قَدْ نَسَبَاهُ إِلَى أَنَّ الْحَدِيثَ لَيْسَ مِنْ صَنْعَتِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا ، جب وہ ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کی طرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ بات بتائی ہے : ” لوٹ کے اللہ کی طرف جانا ہے ، جنت کی طرف ، یا جہنم کی طرف ( جانا ہے ) ہمیشہ رہنے والی ایسی زندگی ، جو موت کے بغیر ہو گی ، اور ایسا رہنا جس میں روانگی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایسے جسم ہوں گے ، جنہیں موت نہیں آئے گی ۔ “ معجم کبیر کی سند عمدہ ہے ، البتہ ابن ثابت نامی راوی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے درمیان عمرو بن میمون اودی نامی راوی ساقط ہے جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے ” مستدرک “ میں ، کتاب الایمان کے آخر میں اسے روایت کیا ہے ، ان کے طریق میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، عقبہ کہتے ہیں : یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے ، اس کے راوی اہل مکہ ہیں اور مسلم بن خالد زنگی ، اہل مکہ کا امام اور ان کا مفتی ہے ، تاہم شیخین ( یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم ) اس بات کے قائل ہیں کہ یہ شخص علم حدیث کا عالم نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3866) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1672) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (175/20)»