حدیث نمبر: 18624
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : نَزَلَتْ : " يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ " إِلَى قَوْلِهِ : " عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ " عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ فَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى ثَابَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا ؟ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ : قُمْ فَابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ ، وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " . فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ ، إِنَّ مَعَكُمْ لَخَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ : يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ كَفَرَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید ہو گا ۔ “ یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سفر کے دوران نازل ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز بلند کی ، یہاں تک کہ آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ کیسا دن ہو گا ؟ اُس دن اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام سے یہ فرمائے گا : تم اُٹھو اور ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے لوگوں کو جہنم کی طرف بھیج دو اور ایک فرد کو جنت کی طرف بھیجو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں کو اس سے بڑی پریشانی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ٹھیک رہو ، میانہ روی اختیار کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دیگر لوگوں کے مقابلے میں تمہاری مثال یوں ہے ، جیسے اونٹ کے پہلو پر تل ہوتا ہے ، یا کسی جانور کے بازو پر ابھرا ہوا نشان ہوتا ہے ، تمہارے ساتھ دو قسم کی مخلوق ایسی ہے کہ وہ جس کسی کے ساتھ ملیں گے ، اُسے تعداد میں زیادہ کر دیں گے ، وہ یاجوج ماجوج ہیں اور جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے وہ کافر ہیں جو ہلاک ہو چکے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن مہدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3122)»