مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فِي كِبْرِهِ يَدْخُلُ النَّارَ . باب: اس کا بیان ، کہ کتنی بڑی ( تعداد ) جہنم میں داخل ہو گی
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ : " يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " ذَاكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا آدَمُ ، قُمْ فَابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ : وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ فَيَقُولُ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ ، وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " . فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْمَلُوا وَبَشِّرُوا ، فَإِنَّكُمْ بَيْنَ خَلِيقَتَيْنِ لَمْ يَكُونَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ : يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ - أَوْ قَالَ : الْأُمَمِ - كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ ، إِنَّمَا أُمَّتِي جُزْءٌ مِنْ أَلْفِ جُزْءٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی ، آپ کے اصحاب اس وقت آپ کے پاس موجود تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آیت کے آخر تک تلاوت کیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ وہ کیسا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا دن ہو گا ، جس میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! اٹھو اور مخصوص لوگوں کو جہنم کی طرف بھیج دو ! وہ دریافت کریں گے : کتنے مخصوص لوگ ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے لوگ جہنم کی طرف جائیں گے اور ایک فرد جنت کی طرف جائے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین پر یہ بات بہت گراں گزری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو گے ، مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ عمل کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو ! کہ تم لوگ دو قسم کی مخلوق کے درمیان ہو ، وہ جس کسی کے ساتھ ملیں گے اسے تعداد میں زیادہ کر دیں گے ، وہ یاجوج ماجوج ہیں ، دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال یوں ہے جیسے اونٹ کے پہلو پر تل ہوتا ہے ، یا جیسے جانور کے بازو پر اُبھرا ہوا نشان ہوتا ہے ، بیشک میری اُمت ایک ہزار اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔