حدیث نمبر: 18609
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ : أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ ؟ قُلْتُ : لَا قَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، تَجْرِي مِنْهُ أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ ، قُلْتَ : أَنْهَارًا ؟ قَالَ : بَلْ أَوْدِيَةً ، فَذَكَرَ الَحْدِيثَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَنْبَسَةِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ جہنم کی وسعت کتنی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! تم یہ نہیں جانتے کہ اہل جہنم کے کانوں کی لو سے لے کر اس کی گردن کے درمیان کا فاصلہ ستر برس کا ہو گا اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی ، میں نے کہا: کیا نہریں ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وادیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عنبسہ بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (116/6)»