مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابُ عِظَمِ خَلْقِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ . باب: جہنم میں کافر کی جسامت کا بڑا ہونا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَغِلَظُ جِلْدِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا ، وَهُنَا سَبْعُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی جلد کی چوڑائی ستر ذراع ہو گی اور اس کا زانو ورقان پہاڑ کی مانند ہو گا اور جہنم میں اس کا مقعد ( یعنی اس کی سرین یا اس کے بیٹھنے کی جگہ ) اتنی ہو گی ، جتنا یہاں سے لے کر ” ربذہ “ کے درمیان کا فاصلہ ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اس کی جلد کی موٹائی چالیس ذراع ہو گی ۔ “ جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں : ” ستر ذراع ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ربعی بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔