وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِينٍ غَيْرِ حِينِهِ الَّذِي كَانَ يَأْتِيهِ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ؟ " . فَقَالَ : مَا جِئْتُكَ حَتَّى أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِمَفَاتِيحِ النَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ صِفْ لِيَ النَّارَ وَانْعَتْ لِي جَهَنَّمَ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَ بِجَهَنَّمَ فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ ، فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ لَا يُضِيءُ شَرَرُهَا وَلَا يُطْفَأُ لَهَبُهَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ قَدْرَ ثُقْبِ إِبْرَةٍ فُتِحَ مِنْ جَهَنَّمَ لَمَاتَ مَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْ حَرِّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ خَازِنًا مِنْ خَزَنَةِ جَهَنَّمَ بَرَزَ إِلَى أَهْلِ الدُّنْيَا فَنَظَرُوا إِلَيْهِ ، لَمَاتَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ مِنْ قُبْحِ وَجْهِهِ ، وَمِنْ نَتَنِ رِيحِهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ حَلْقَةً مِنْ حَلْقَةِ سِلْسِلَةِ أَهْلِ النَّارِ الَّتِي نَعَتَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وُضِعَتْ عَلَى جِبَالِ الدُّنْيَا لَارْفَضَّتْ وَمَا تَقَارَّتْ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَسْبِي يَا جِبْرِيلُ ، لَا يَنْصَدِعُ قَلْبِي فَأَمُوتُ " . قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : " تَبْكِي يَا جِبْرِيلُ ، وَأَنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَنْتَ بِهِ ؟ ! " . فَقَالَ : وَمَا لِي لَا أَبْكِي ؟ أَنَا أَحَقُّ بِالْبُكَاءِ ، لَعَلِّي أَكُونُ فِي عِلْمِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي أُبْتَلَى بِمَا ابْتُلِيَ بِهِ إِبْلِيسُ ، فَقَدْ كَانَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي أُبْتَلَى بِمِثْلِ مَا ابْتُلِيَ بِهِ هَارُوتُ وَمَارُوتُ . قَالَ : فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَكَى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَمَا زَالَا يَبْكِيَانِ حَتَّى نُودِيَا أَنْ : يَا جِبْرِيلُ ، وَيَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَمَّنَكُمَا أَنْ تَعْصِيَاهُ . فَارْتَفَعَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَضْحَكُونَ وَيَلْعَبُونَ ، فَقَالَ : " أَتَضْحَكُونَ وَوَرَاءَكُمْ جَهَنَّمُ ؟ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَمَا أَسَغْتُمُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " .
فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَا تُقَنِّطْ عِبَادِي ، إِنَّمَا بَعَثْتُكَ مُيَسِّرًا ، وَلَمْ أَبْعَثْكَ مُعَسِّرًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، یہ اس وقت کی بات ہے جس وقت میں وہ عام طور پر نہیں آیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری رنگت تبدیل ہے ( یعنی تم پریشان نظر آ رہے ہو ) سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے پاس اُس وقت تک نہیں آیا جب تک اللہ تعالیٰ نے جہنم کی کنجیوں کے بارے میں حکم نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! تم آگ ( یا جہنم ) کی صفت ( یعنی حلیہ ) میرے سامنے بیان کرو اور جہنم کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ! سیدنا جبرائیل ! علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالی نے جہنم کے بارے میں حکم دیا ، تو ایک ہزار سال تک اسے دہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی ، پھر اس جہنم کے بارے میں حکم دیا گیا ، اسے ایک ہزار سال تک مزید دہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی ، پھر اس نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایک ہزار سال تک مزید ہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو گئی ، تو اب وہ سیاہ تاریک ہے ، اس کے شراروں میں روشنی نہیں ہے ، اور اس کے انگارے بجھتے نہیں ہیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، اگر جہنم میں سے سوئی کے ناکے جتنی جگہ کو کھول دیا جائے تو اس کی تپش کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر جہنم کے نگران فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ اہل دنیا کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ لوگ اُس کی طرف دیکھیں ، تو اس کے چہرے کی ہیبت ناکی اور اس کی بو کی تیزی کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر اہل جہنم کی زنجیروں کی کوئی ایک کڑی ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ، اگر اُسے دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو وہ سب اپنی جگہ سے ہل جائیں ، اور کوئی جما نہ رہے ، یہاں تک کہ وہ سب سے نیچے والی زمین تک چلے جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! میرے لئے اتنا کافی ہے ، ایسا نہ ہو کہ میرا دل پھٹ جائے اور میں مر جاؤں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا جو رو رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں مخصوص مقام حاصل ہے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں کیوں نہ روؤں ؟ میں رونے کا زیادہ حقدار ہوں ، کیونکہ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں میری حالت اس سے مختلف ہو ، جو اس وقت ہے ، میں نہیں جانتا ، ہو سکتا ہے کہ مجھے بھی اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے ، جس طرح کی آزمائش میں ابلیس کو مبتلا کیا گیا ، وہ بھی تو پہلے فرشتوں میں سے تھا ، میں نہیں جانتا ، ہو سکتا ہے کہ مجھے اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے جس میں ہاروت اور ماروت کو مبتلا کیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رونے لگے اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی رونے لگے ، یہ دونوں حضرات مسلسل روتے رہے ، یہاں تک کہ پکار کر یہ کہا: گیا ہے : اے جبرائیل اور محمد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ دونوں اس کی نافرمانی کرو ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام اوپر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ کا گزر انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو ہنس رہے تھے اور کھیل کود کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ جبکہ جہنم تمہارے آگے موجود ہے ، جو میں جانتا ہوں ، اگر تم بھی جان لو تم تھوڑا ہنسو اور تم زیادہ رویا کرو ، اور تم سیر ہو کر کھایا پیا نہ کرو ، اور تم ویرانوں کی طرف نکل جاؤ ، تاکہ تم اللہ کی پناہ حاصل کرو ۔ تو پکار کر کہا: گیا : اے محمد ! تم میرے بندوں کو مایوس نہ کرو ! بے شک میں نے تمہیں آسانی فراہم کرنے والا بنا کر مبعوث کیا ہے میں نے تمہیں تنگی کا شکار کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان لوگوں سے ) ارشاد فرمایا : ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔