حدیث نمبر: 18573
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِينٍ غَيْرِ حِينِهِ الَّذِي كَانَ يَأْتِيهِ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ؟ " . فَقَالَ : مَا جِئْتُكَ حَتَّى أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِمَفَاتِيحِ النَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ صِفْ لِيَ النَّارَ وَانْعَتْ لِي جَهَنَّمَ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَ بِجَهَنَّمَ فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ ، فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ لَا يُضِيءُ شَرَرُهَا وَلَا يُطْفَأُ لَهَبُهَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ قَدْرَ ثُقْبِ إِبْرَةٍ فُتِحَ مِنْ جَهَنَّمَ لَمَاتَ مَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْ حَرِّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ خَازِنًا مِنْ خَزَنَةِ جَهَنَّمَ بَرَزَ إِلَى أَهْلِ الدُّنْيَا فَنَظَرُوا إِلَيْهِ ، لَمَاتَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ مِنْ قُبْحِ وَجْهِهِ ، وَمِنْ نَتَنِ رِيحِهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ حَلْقَةً مِنْ حَلْقَةِ سِلْسِلَةِ أَهْلِ النَّارِ الَّتِي نَعَتَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وُضِعَتْ عَلَى جِبَالِ الدُّنْيَا لَارْفَضَّتْ وَمَا تَقَارَّتْ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَسْبِي يَا جِبْرِيلُ ، لَا يَنْصَدِعُ قَلْبِي فَأَمُوتُ " . قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : " تَبْكِي يَا جِبْرِيلُ ، وَأَنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَنْتَ بِهِ ؟ ! " . فَقَالَ : وَمَا لِي لَا أَبْكِي ؟ أَنَا أَحَقُّ بِالْبُكَاءِ ، لَعَلِّي أَكُونُ فِي عِلْمِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي أُبْتَلَى بِمَا ابْتُلِيَ بِهِ إِبْلِيسُ ، فَقَدْ كَانَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي أُبْتَلَى بِمِثْلِ مَا ابْتُلِيَ بِهِ هَارُوتُ وَمَارُوتُ . قَالَ : فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَكَى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَمَا زَالَا يَبْكِيَانِ حَتَّى نُودِيَا أَنْ : يَا جِبْرِيلُ ، وَيَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَمَّنَكُمَا أَنْ تَعْصِيَاهُ . فَارْتَفَعَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَضْحَكُونَ وَيَلْعَبُونَ ، فَقَالَ : " أَتَضْحَكُونَ وَوَرَاءَكُمْ جَهَنَّمُ ؟ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَمَا أَسَغْتُمُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَا تُقَنِّطْ عِبَادِي ، إِنَّمَا بَعَثْتُكَ مُيَسِّرًا ، وَلَمْ أَبْعَثْكَ مُعَسِّرًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، یہ اس وقت کی بات ہے جس وقت میں وہ عام طور پر نہیں آیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری رنگت تبدیل ہے ( یعنی تم پریشان نظر آ رہے ہو ) سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے پاس اُس وقت تک نہیں آیا جب تک اللہ تعالیٰ نے جہنم کی کنجیوں کے بارے میں حکم نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! تم آگ ( یا جہنم ) کی صفت ( یعنی حلیہ ) میرے سامنے بیان کرو اور جہنم کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ! سیدنا جبرائیل ! علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالی نے جہنم کے بارے میں حکم دیا ، تو ایک ہزار سال تک اسے دہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی ، پھر اس جہنم کے بارے میں حکم دیا گیا ، اسے ایک ہزار سال تک مزید دہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی ، پھر اس نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایک ہزار سال تک مزید ہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو گئی ، تو اب وہ سیاہ تاریک ہے ، اس کے شراروں میں روشنی نہیں ہے ، اور اس کے انگارے بجھتے نہیں ہیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، اگر جہنم میں سے سوئی کے ناکے جتنی جگہ کو کھول دیا جائے تو اس کی تپش کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جہنم کے کپڑوں میں سے کوئی ایک کپڑا اگر آسمان اور زمین کے درمیان لٹکا دیا جائے تو اس کی تپش کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر جہنم کے نگران فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ اہل دنیا کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ لوگ اُس کی طرف دیکھیں ، تو اس کے چہرے کی ہیبت ناکی اور اس کی بو کی تیزی کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر اہل جہنم کی زنجیروں کی کوئی ایک کڑی ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ، اگر اُسے دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو وہ سب اپنی جگہ سے ہل جائیں ، اور کوئی جما نہ رہے ، یہاں تک کہ وہ سب سے نیچے والی زمین تک چلے جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! میرے لئے اتنا کافی ہے ، ایسا نہ ہو کہ میرا دل پھٹ جائے اور میں مر جاؤں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا جو رو رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں مخصوص مقام حاصل ہے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں کیوں نہ روؤں ؟ میں رونے کا زیادہ حقدار ہوں ، کیونکہ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں میری حالت اس سے مختلف ہو ، جو اس وقت ہے ، میں نہیں جانتا تھا کہ مجھے بھی اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے ، جس طرح کی آزمائش میں ابلیس کو مبتلا کیا گیا ، وہ بھی تو پہلے فرشتوں میں سے تھا ، میں نہیں جانتا ، ہو سکتا ہے کہ مجھے اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے جس میں ہاروت اور ماروت کو مبتلا کیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رونے لگے اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی رونے لگے ، یہ دونوں حضرات مسلسل روتے رہے ، یہاں تک کہ پکار کر یہ کہا: گیا ہے : اے جبرائیل اور محمد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ دونوں اس کی نافرمانی کرو ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام اوپر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ کا گزر انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو ہنس رہے تھے اور کھیل کود کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ جبکہ جہنم تمہارے آگے موجود ہے ، جو میں جانتا ہوں ، اگر تم بھی جان لو تم تھوڑا ہنسو اور تم زیادہ رویا کرو ، اور تم سیر ہو کر کھایا پیا نہ کرو ، اور تم ویرانوں کی طرف نکل جاؤ ، تاکہ تم اللہ کی پناہ حاصل کرو ۔ تو پکار کر کہا: گیا : اے محمد ! تم میرے بندوں کو مایوس نہ کرو ! بے شک میں نے تمہیں آسانی فراہم کرنے والا بنا کر مبعوث کیا ہے میں نے تمہیں تنگی کا شکار کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان لوگوں سے ) ارشاد فرمایا : ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2604)»