حدیث نمبر: 18572
وَعَنْ عُمَرَ : أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِينًا لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي أَرَاكَ يَا جِبْرِيلُ ، حَزِينًا ؟ ! " . فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ لَفْحَةً مِنْ رُوحِي فَلَمْ تَرْجِعْ إِلَيَّ بَعْدُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَلَفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غمگین حالت میں آئے ، انہوں نے اپنا سر نہیں اٹھایا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے ؟ میں تمہیں غمگین دیکھ رہا ہوں ، انہوں نے بتایا : میں نے جہنم کا ایک شعلہ دیکھا ہے تو اس کے بعد میری روح میری طرف واپس نہیں آئی ( یعنی اس کے بعد میری پریشانی ختم نہیں ہوئی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن خلف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف