حدیث نمبر: 18559
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عَبْدًا لَيُنَادِي فِي النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ : يَا حَنَّانُ ، يَا مَنَّانُ ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا . فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُنْكَبِّينَ يَبْكُونَ ، فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُخْبِرُهُ ، فَيَقُولُ : ائْتِنِي بِهِ ; فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَقُولُ : يَا عَبْدِي ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، شَرُّ مَكَانٍ وَشَرُّ مَقِيلٍ ، فَيَقُولُ : رُدُّوا عَبْدِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تُعِيدَنِي فِيهَا . فَيَقُولُ : دَعُوا عَبْدِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ظِلَالٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک ” یا حنان یا منان “ پکارتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا : تم جاؤ اور میرے اس بندے کو میرے پاس لے کر آؤ ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام جائیں گے ، وہ اہل جہنم کو پائیں گے ، وہ سر جھکا کر ( یا اوندھے ہو کر ) رو رہے ہوں گے ، وہ ( یعنی سیدنا جبرائیل علیہ السلام ) اپنے پروردگار کے پاس واپس آئیں گے اور اس کو یہ بات بتائیں گے ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اُس ( بندے ) کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ فلاں فلاں مقام پر ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اسے ساتھ لائیں گے اور اس کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑا کر دیں گے ، پروردگار دریافت کرے گا : اے میرے بندے ! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! سب سے بری جگہ اور سب سے برا ٹھکانہ ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو واپس لے جاؤ ! وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید نہیں تھی کہ اگر تو مجھے اس میں سے نکال دے گا ، تو مجھے واپس اس میں بھیج دے گا ، تو پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو چھوڑ دو !“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال کا معاملہ مختلف ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4210) اخرجه احمد فى المسند (230/3)»