حدیث نمبر: 18558
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ رَجُلَانِ ، يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، وَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً ، وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا ، وَهُوَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " هَلْ خِفْتَنِي ؟ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخر میں دو افراد ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان دونوں میں سے ایک سے فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لئے کیا تیاری کی تھی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی تھی ؟ کیا تم نے مجھ سے امید رکھی تھی ؟ وہ شخص جواب دے گا : جی نہیں ! اے میرے پروردگار ! اُسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا اور وہ اہل جہنم میں سب سے زیادہ شدید حسرت کا شکار ہو گا ، وہ ( پروردگار ) دوسرے سے دریافت کرے گا : تم نے کبھی کوئی بھلائی کی تھی ؟ یا تم نے مجھ سے امید رکھی تھی ؟ تو وہ شخص کہے گا : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ( جہنم سے ) نکال دیا ہے ، تو مجھے دوبارہ اس میں نہیں ڈالے گا ( راوی کہتے ہیں ) یعنی جنت میں داخل ہونے والا ، وہ آخری فرد ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” کیا تم مجھ سے ڈرے تھے ؟ “ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (70/5)»