مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . قَالَ : " ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ " . قَالَ : " ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَأَقُولُ : أُمَّتِي ! فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ [ لِي ] : لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: شفاعت کا مزید بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُوضَعُ لِلْأَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَجْلِسُونَ عَلَيْهَا ، وَيَبْقَى مِنْبَرِي لَا أَجْلِسُ عَلَيْهِ ، أَوْ لَا أَقْعُدُ عَلَيْهِ قَائِمًا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي [ مُنْتَصِبًا بِأُمَّتِي ] مَخَافَةَ أَنْ يَبْعَثَ بِي إِلَى الْجَنَّةِ وَتَبْقَى أُمَّتِي بَعْدِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ، أُمَّتِي ! أُمَّتِي ! فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا مُحَمَّدُ، مَا تُرِيدُ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ ؟ فَأَقُولُ : يَا رَبِّ، تُعَجِّلُ حِسَابَهُمْ ، فَيُدْعَى بِهِمْ فَيُحَاسَبُونَ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي ، فَمَا أَزَالُ أَشْفَعُ حَتَّى أُعْطَى صِكَاكًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، حَتَّى إِنَّ مَالِكًا خَازِنَ النَّارَ لَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا تَرَكْتَ لِغَضَبِ رَبِّكَ فِي أُمَّتِكَ مِنْ نِقْمَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انبیاء کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے ، جن پر وہ بیٹھیں گے ، صرف میرا منبر باقی رہے گا ، میں اس پر نہیں بیٹھوں گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں اپنی امت کی خاطر اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا رہوں گا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں مجھے جنت میں نہ بھجوا دیا جائے اور میرے بعد میری امت باقی رہ جائے ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار ! تو ان کے حساب میں عدل کر ! پھر ان کو بلایا جائے گا اور ان کا حساب لیا جائے گا ، ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، ان میں سے کوئی میری شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، میں مسلسل شفاعت کرتا رہوں گا ، مجھے ایسے لوگ دیے جاتے رہیں گے جنہیں جہنم کی طرف بھجوایا گیا تھا ، یہاں تک کہ جہنم کا داروغہ ” مالک “ یہ کہے گا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ نے اپنی امت کے بارے میں اپنے پروردگار کے غضب کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔