حدیث نمبر: 1853
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَزِينٌ - وَكَانَ الرَّجُلُ ذَا طَعَامٍ يُجْتَمَعُ إِلَيْهِ - وَدَخَلَ مَسْجِدَهُ يُصَلِّي ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ نَعَسَ فَأَتَاهُ آتٍ فِي النَّوْمِ ، فَقَالَ : قَدْ عَلِمْتُ مَا حَزِنْتَ لَهُ . قَالَ : فَذَكَرَ قِصَّةَ الْأَذَانِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُخْبِرَ بِمِثْلِ مَا أُخْبِرْتَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَمُرُوا بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ بِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ پریشان لگ رہے تھے وہ شخص کھانا پکایا کرتا تھا اور لوگ اس کے پاس اکھٹے ہوا کرتے تھے وہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کرنے لگا ابھی وہ اسی حالت میں تھا کہ اسے اونگھ آ گئی خواب میں ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: کیا تم جانتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس سلسلے میں پریشان ہیں ۔ اس کے بعد راوی نے اذان سے متعلق پورا واقعہ نقل کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے مجھے جو بات بتائی ہے وہ ابوبکر کو بھی بتاؤ اور تم لوگ بلال کو یہ کہو کہ وہ اس طرح اذان دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔