حدیث نمبر: 18500
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي ، بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ ، وَجُعِلَتْ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَنُصِرْتُ بِالْرُعْبِ أَمَامِي مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتَهَا لِأُمَّتِي فِهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ حَسَنَيْنِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّيَمُّمِ ، وَطُرُقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي عُمُومِ بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے سرخ فام اور سیاہ فام ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ، مجھ سے پہلے کے ( انبیاء ) کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا ، میرے لیے روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا اور ایک ماہ کی مسافت سے میرے سامنے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا تو وہ ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو حسن اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق تیمم کے متعلق باب میں گزر چکے ہیں اور کچھ طرق نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی عمومیت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18500
درجۂ حدیث محدثین: إسناداہ حسنان
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3460)»