حدیث نمبر: 18499
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي ، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میرے لیے روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ قرار دے دیا گیا ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں ہوا ، میرے دشمن کے خلاف ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ۔ “ مجھے ہر سرخ فام اور سیاہ فام ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا اور وہ میری امت کے ہر اُس فرد کو نصیب ہو گی جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ بنا دیا گیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ مجاہد نامی راوی نے ” سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3461)»