حدیث نمبر: 18497
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقَيْلٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْنَاهُ فَأَنَخْنَا بِالْبَابِ ، وَمَا فِي النَّاسِ أَبْغَضُ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ نَلِجُ عَلَيْهِ ، فَمَا خَرَجْنَا حَتَّى مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَّا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا سَأَلْتَ رَبَّكَ مُلْكًا كَمُلْكِ سُلَيْمَانَ ؟ قَالَ : فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ : " فَلَعَلَّ لِصَاحِبِكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا أَعْطَاهُ دَعْوَةً ، مِنْهُمْ مَنِ اتَّخَذَ بِهَا دُنْيَاهُ فَأُعْطِيَهَا ، وَمِنْهُمْ مَنْ دَعَا بِهَا عَلَى قَوْمِهِ إِذْ عَصَوْهُ فَأُهْلِكُوا بِهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي دَعْوَةً فَاخْتَبَأْتُهَا عِنْدَ رَبِّي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن ابوعقیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک وفد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کے دروازے پر سواریاں باندھیں ، اس وقت میرے نزدیک آپ سب سے ناپسندیدہ فرد تھے ، جب میں آپ کے پاس جانے لگا تھا ، لیکن جب ہم آپ کے پاس سے اٹھے تو آپ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد تھے ، ہم میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنے پروردگار سے ایسی بادشاہی کیوں نہیں مانگتے جس طرح سیدنا سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے تمہارے آقا کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ چیز ہو جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا اُسے ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا ، ان انبیاء میں سے کسی نے اس مخصوص دعا کے ذریعے کوئی دنیاوی نتیجہ حاصل کرنا چاہا تو وہ انہیں دے دیا گیا ، اُن میں سے کسی نے اس مخصوص دعا کو اپنی قوم کے خلاف استعمال کیا جب اس قوم نے ان کی نافرمانی کی تھی ، تو اس دعا کی وجہ سے انھیں ہلاکت کا شکار کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا تو میں نے وہ قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھوا دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3459)»