مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ قَالَ : سَأَلْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ ، فَقَالَ : نَعَمْ . أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ كُتِبَ إِلَيْنَا بِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ أَنَسٌ : احْفَظُوا هَذَا فَإِنَّهُ مِنْ كَنْزِ الْحَدِيثِ . قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ نَزَلَ وَعَسْكَرَ النَّاسُ حَوْلَهُ ، وَنَامَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ أَرْبَعَةٌ ، فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَامَ ، وَنَامَ الْأَرْبَعَةُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمْ يَجِدُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ رَاحِلَتِهِ ، فَذَهَبُوا يَلْتَمِسُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقُوهُ مُقْبِلًا ، فَقَالُوا : جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاكَ ! أَيْنَ كُنْتَ ، فَإِنَّا قَدْ فَزِعْنَا لَكَ إِذْ لَمْ نَرَكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُنْتُ نَائِمًا حَيْثُ رَأَيْتُمْ ، فَسَمِعْتُ فِي نَوْمِي دَوِيًّا كَدَوِيِّ الرَّحَا - أَوْ هَزِيزِ الرَّحَا - فَفَزِعْتُ فِي مَنَامِي ، فَوَثَبْتُ فَمَضَيْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ السَّاعَةَ لِأُخَيِّرَكَ : إِمَّا أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ ، وَإِمَّا الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي " . فَقَالَ النَّفَرُ الْأَرْبَعَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ لَكُمْ " . ثُمَّ أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّفَرُ الْأَرْبَعَةُ حَتَّى اسْتَقْبَلَهُ عَشَرَةٌ ، فَقَالُوا : أَيْنَ نَبِيُّنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ ؟ قَالَ : فَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي حَدَّثَ الْقَوْمَ ، فَقَالُوا : - جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ - اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ لَكُمْ " . فَجَاءُوا جَمِيعًا إِلَى عُظْمِ النَّاسِ ، فَنَادَوْا فِي النَّاسِ : هَذَا نَبِيُّنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ ، فَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي حَدَّثَ الْقَوْمَ ، فَنَادَوْا بِأَجْمَعِهِمْ : - جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ - جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ ، فَنَادَى ثَلَاثًا : " إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ ، وَأُشْهِدُ مَنْ سَمِعَ : أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ يَمُوتُ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قُرَّةَ بْنِ حَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوکعب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نصر سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے میں تمہیں ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو انہوں نے مدینہ منورہ سے ہماری طرف لکھ کے بھیجی تھی ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو محفوظ کر لینا کیونکہ یہ حدیث کے خزانوں میں سے ہے انہوں نے بتایا : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ میں شرکت کی ، آپ دن بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ رات ہو گئی جب رات ہو گئی تو آپ نے پڑاؤ کیا لوگوں نے آپ کے اردگرد پڑاؤ کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جو سیده ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر ہیں ، اور فلاں اور فلاں یہ چار افراد تھے ، یہ سو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے بازو کا تکیہ بنا لیا اور آپ سو گئے ، باقی چار افراد بھی آپ کے اردگرد سو گئے ، جب رات کا ایک حصہ گزر گیا اور ان لوگوں نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ( یہ حضرات آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ) یہاں تک کہ ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا ہوا ، جو سامنے سے تشریف لا رہے تھے ان حضرات نے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے آپ کہاں تھے ؟ ہم نے جب آپ کو نہیں دیکھا تو ہم آپ کے حوالے سے پریشان ہو گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں سو گیا تھا ، جیسا کہ تم نے دیکھا تھا ، نیند میں ، میں نے ایک آواز سنی جو چکی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی ، میں گھبرا کر نیند سے بیدار ہو گیا ، میں اُٹھا اور چل پڑا جبرائیل میرے سامنے آئے اور انہوں نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ابھی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو اختیار دوں تو آپ ( دو میں سے کوئی ایک صورت ) اختیار کر لیں ، یا تو یہ ہے کہ آپ کی امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر قیامت کے دن شفاعت ہو ( نبی اکرم علی نے فرمایا : ) تو میں نے اپنی امت کے لئے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ “ ان چاروں افراد نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں ، جن کی آپ شفاعت کریں گے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ چاروں افراد واپس آئے تو ان کا سامنا دس افراد سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : ہمارے نبی ، جو نبی رحمت ہیں ، وہ کہاں تھے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی وہی بات بتائی جو پہلے دوسرے لوگوں کو بتا چکے تھے تو ان لوگوں نے بھی یہی عرض کی : اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے ، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارے لئے واجب ہو گئی ، پھر یہ سب حضرات باقی دیگر لوگوں کے پاس آ گئے ، ان لوگوں نے باقی لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ یہ ہمارے نبی ، جو نبی رحمت ہیں ، اس کے بعد انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں باقی لوگوں کو بھی بتایا تو ان سب نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے ، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں ، جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بلند آواز میں پکار کر یہ فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اور جو سن رہا ہے ، اُسے بھی گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : کہ میری شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن قرہ بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔