حدیث نمبر: 18494
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَوْفٍ أَيْضًا قَالَ : نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا ، فَاسْتَيْقَظْتُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى فِي الْعَسْكَرِ شَيْئًا أَطْوَلَ مِنْ مُؤَخِّرَةِ رَحْلٍ قَدْ لَصِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ وَبَعِيرُهُ بِالْأَرْضِ ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى مَضْجَعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِيهِ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى الْفِرَاشِ فَإِذَا هُوَ بَارِدٌ ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ وَأَقُولُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ " .
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، رات کے وقت میں بیدار ہوا تو مجھے پورے لشکر میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی تھی ، جو پالان کی پچھلی لکڑی سے زیادہ لمبی ہو ، ہر انسان اور اونٹ زمین کے ساتھ لگا ہوا تھا ، میں اُٹھا اور لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کی جگہ کے پاس آیا تو آپ وہاں نہیں تھے میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بستر پر رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا ، میں اُٹھا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھنے لگا ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ وہ میری امت کے نصف حصے کو جنت میں داخل کر دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (68/18)»