مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا ، [ فَنَزَلْنَا ] حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرِقَتْ عَيْنَايَ فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ ، فَقُمْتُ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ دَابَّةٌ إِلَّا وَاضِعَةً خَدَّهَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَأَرَى وَقْعَ كُلِّ شَيْءٍ فِي نَفْسِي [ لَمَوْضِعُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ ]، فَقُلْتُ : لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَكْلَأُ بِهِ اللَّيْلَةَ حَتَّى أُصْبِحَ . فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى رَحْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي رَحْلِهِ ، فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْعَسْكَرِ ، فَإِذَا أَنَا بِسَوَادٍ فَتَيَمَّمْتُ ذَلِكَ السَّوَادَ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقَالَا لِي : مَا الَّذِي أَخْرَجَكَ ؟ فَقُلْتُ : الَّذِي أَخْرَجَكُمَا ، فَإِذَا نَحْنُ بِغَيْطَةٍ مِنَّا غَيْرِ بَعِيدٍ ، فَمَشَيْنَا إِلَى الْغَيْطَةِ فَإِذَا نَحْنُ نَسْمَعُ فِيهَا كَدَوِيِّ النَّحْلِ ، وَتَخْفِيقِ الرِّيَاحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاهُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ وَلَا يَسْأَلُنَا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى رَجَعَ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا خَيَّرَنِي رَبِّي آنِفًا ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ ثُلُثَيْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الَّذِي اخْتَرْتَ ؟ قَالَ : " اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " . قُلْنَا جَمِيعًا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، قَالَ : " إِنَّ شَفَاعَتِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، جب رات کا وقت ہوا تو نیند میری آنکھوں سے دور تھی ، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ، تو میں اٹھ کھڑا ہوا ، لشکر میں موجود ہر جانور نے اپنا رخسار زمین پر رکھا ہوا تھا ، میں نے سوچا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں اور صبح ہونے تک رات بھر آپ کی حفاظت کرتا رہوں گا ، میں نکلا اور مختلف لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پالان میں نہیں تھے ، میں وہاں سے نکلا اور مختلف لوگوں کے پالانوں کے درمیان میں سے ہوتا ہوا لشکر سے باہر نکل آیا ، مجھے سامنے کوئی ہیولیٰ نظر آیا ، میں اس کی طرف بڑھا تو وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے : تم کیوں باہر آئے ہو ؟ میں نے کہا: اسی وجہ سے جس کی وجہ سے آپ دونوں باہر آئے ہیں ، ہمارے سامنے کشادہ میدان تھا ، جسے لوگ قضائے حاجت کے لئے استعمال کرتے تھے ، وہ زیادہ دور نہیں تھا ، ہم اس میدان کی طرف چل پڑے اسی دوران ہم نے وہاں سے آواز سنی جو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ، یوں جیسے ہوا چل رہی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہاں ابوعبیدہ بن جراح ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور معاذ بن جبل ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور عوف بن مالک ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، ہم نے آپ سے کوئی سوال نہیں کیا ، نہ ہی آپ نے ہم سے کوئی اور سوال کیا ، یہاں تک کہ آپ اپنے پالان کے پاس واپس تشریف لے آئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پروردگار نے مجھے اختیار دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ میری امت کے دو تہائی حصے کو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کر دے ، اس چیز اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا ہے ، ہم نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! تو پھر آپ نے کیا اختیار کیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ ہم سب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اپنی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری شفاعت ہر مسلمان کے لئے ہو گی ۔