مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقَرِيبٍ مِنَ الصُّبْحِ نَزَلَ فَاجْتَمَعْنَا حَوْلَهُ ، وَكَذَلِكَ كُنَّا نَفْعَلُ ، فَعَقَلَ نَاقَتَهُ ، ثُمَّ جَعَلَ خَدَّهُ عَلَى عِقَالِهَا ، ثُمَّ نَامَ وَتَفَرَّقْنَا ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا لَا أَرَاهُ فِي مَكَانِهِ ، فَذَعَرَنِي ذَلِكَ ، فَقُمْتُ فَإِذَا أَنَا أَسْمَعُ مِثْلَ هَزِيزِ الرَّحَاءِ مِنْ قِبَلِ الْوَادِي ، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَبْشِرًا ،[ قَالَ ] : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ كُنْتَ ؟ قَالَ : " كَأَنَّهُ رَاعَكَ حِينَ لَمْ تَرَنِي فِي مَكَانِي ؟ " . قُلْتُ : إِي وَاللَّهِ ، قَدْ رَاعَنِي ! قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - آنِفًا ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَغْفِرَ لِنِصْفِ أُمَّتِي ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " . فَنَهَضَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْفَعْ لَنَا ، قَالَ : " شَفَاعَتِي لَكُمْ " . فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ قَالَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ فِي الصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ صبح کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، ہم آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، ہم اسی طرح کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اوٹنی کو باندھا پھر آپ نے اپنا رخسار اس کی رسی پر رکھا اور آپ سو گئے ، ہم بھی ادھر ادھر بکھر گئے ، میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مخصوص جگہ پر نہ پایا ، میں اس پر گھبرا گیا ، میں اُٹھا میں نے نشیبی حصے کی طرف سے چکی چلنے کی سی آواز سنی اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کہاں تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لگتا ہے تم نے مجھے میری جگہ پر نہیں دیکھا تو تم پریشان ہو گئے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں پریشان ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا کہ یا شفاعت ہو ، یا ( پروردگار ) میری نصف امت کی مغفرت کر دے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ “ اسی دوران لوگ بھی اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہماری بھی شفاعت کیجئے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت تمہیں بھی نصیب ہو گی ، جب لوگ بکثرت آنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “ طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت انہوں نے معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔