مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّفَاعَةِ . باب: شفاعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ أَطْلُبُهُ ] فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ بَارِزًا ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ . قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذِ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ ، وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ ، فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ حَاجَةٌ ، قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ فَقَامَ مَعَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَا ، وَحَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ ، وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ ثُلُثُ أُمَّتِي الْجَنَّةِ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي ، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ " . قَالَ : فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، فَدَعَا لَهُمَا ، ثُمَّ إِنَّهُمَا انْتَهَيَا إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، فَيَدْعُو لَهُمْ ، فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَكَثُرُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا ، سفر کے دوران رات کے وقت ہم نے پڑاؤ کیا رات کے کسی وقت میں ، میں اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخصوص جگہ کی طرف آیا ، میں نے آپ کو تلاش کیا لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا ، میں آپ کی تلاش میں کھلی جگہ کی طرف چلا گیا ، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کوئی صاحب موجود تھے وہ بھی اسی تلاش میں تھے جو میں تلاش کر رہا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے ہماری طرف آتے ہوئے تشریف لائے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ایک ایسی سرزمین پر ہیں جہاں جنگ چل رہی ہے ، ہم آپ کے حوالے سے اندیشے کا شکار تھے ، ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت پیش آئی تھی ، تو آپ اپنے اصحاب میں سے کسی سے کہہ دیتے تو وہ آپ کے ساتھ اُٹھ کے چلا جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایک آواز سنی جو چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ میں نے ایک بھنبھناہٹ سنی ، جو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ، میرے پروردگار کی طرف سے ایک پیغام رساں میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ اختیار دیا : کہ یا تو پروردگار میری امت کے ایک تہائی حصے کو جنت میں داخل کر دے گا ، یا شفاعت ہو ، تو میں نے ان لوگوں کے لیے اپنی شفاعت کو اختیار کر لیا کیونکہ مجھے یہ علم ہے کہ یہ ان کے حق میں زیادہ گنجائش والی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے لیے دعا کی ، یہ دونوں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پاس پہنچے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں بتایا ، تو راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے لگے اور یہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا کر دیتے تھے جب لوگ یکے بعد دیگرے آنے لگے اور ان کی آمد بکثرت ہونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( وہ شفاعت ) ہر اس شخص کے لیے ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔