حدیث نمبر: 18467
وَعَنْهُ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ شَيْئًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْمَرْفُوعِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَرْفُوعًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَرَوَاهُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا " . بِرِجَالِ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

ان ( یعنی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جب تم مجھے نہیں دیکھو گے تو میں حوض پر ہوؤں گا ، جس کی مقدار ” ایلہ “ سے لے کر ” مکہ “ تک کے درمیانی فاصلے جتنی ہے ، عنقریب کچھ مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے ، لیکن وہ اس ( حوض ) میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور موقوف روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن لہیعہ ہے انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔ “ یہ ” صحیح “ کے رجال سے منقول ہے ، امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (345/3)»