حدیث نمبر: 18464
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ : إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَنْفَعُ قَوْمَهُ ؟ بَلَى وَاللَّهِ ، إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَإِنِّي يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَإِذَا جِئْتُمْ ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، وَقَالَ آخَرُ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، فَأَقُولُ : فَأَمَّا النِّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمُ الْقَهْقَرَى " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو یہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری اُن کی قوم کو نفع نہیں دے گی ، جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میرے ساتھ رشتہ داری کا تعلق ، دنیا اور آخرت میں جڑا رہے گا اور اے لوگو ! بیشک میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جب تم لوگ آؤ گے تو کوئی شخص یہ کہے گا : یا رسول اللہ ! میں فلاں بن فلاں ہوں ، کوئی دوسرا یہ کہے گا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، تو میں یہ کہوں گا : جہاں تک نسب کا تعلق ہے تو اس کو میں نے جان لیا ہے لیکن تم لوگوں نے میرے بعد نئی چیز پیدا کی اور اُلٹے قدموں پھر گئے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1238) اخرجه احمد فى المسند (18/3)»