مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِيزَانِ وَالصِّرَاطِ وَالْوُرُودِ . باب: میزان ، پل صراط اور ( جہنم پر ) ’’ ورود “ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يُوضَعُ الصِّرَاطُ عَلَى سَوَاءِ جَهَنَّمَ مِثْلَ حَدِّ السَّيْفِ الرَّهِفِ ، مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ بِهَا ، فَمُمْسَكٌ يَهْوِي فِيهَا ، وَمَصْرُوعٌ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالْبَرْقِ فَلَا يَنْشَبُ ذَلِكَ أَنْ يَنْجُوَ ، ثُمَّ كَالرِّيحِ فَلَا يَنْشَبُ ذَلِكَ أَنْ يَنْجُوَ ، ثُمَّ كَجَرْيِ الْفَرَسِ ، ثُمَّ كَسَعْيِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ كَرَمَلِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ كَمَشْيِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ يَكُونُ آخِرَهُمْ إِنْسَانًا رَجُلٌ قَدْ تُوجِبُهُ النَّارُ ، وَلَقِيَ فِيهَا شَرًّا حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ وَسَلْ . فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَتَهْزَأُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ ؟ ! فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ وَسَلْ . حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ مِنْهُ الْأَمَانِيُّ قَالَ : لَكَ مَا سَأَلْتَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائے گا جو تلوار کی دھار سے زیادہ باریک اور تیز ہو گا ، پرے کرنے والا اور پھسلانے والا ہو گا ، اس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو اچک لیں گے ، تو پکڑنے والا اس میں گرے گا اور پچھاڑا گیا ہو گا ، ان میں سے کوئی برق کی مانند گزرے گا ، پھر جیسے ہوا ہوتی ہے ، پھر گھوڑے کے دوڑنے کی مانند ، پھر آدمی کے دوڑنے کی مانند ، پھر آدمی کے تیزی سے چلنے کی مانند ، پھر آدمی کے چلنے کی مانند ، پھر ان کے آخر میں ایسا انسان ہو گا جس پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی ، وہ جہنم میں بری صورتحال کا سامنا کر چکا ہو گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل کے ذریعے اسے جنت میں داخل کر دے گا تو اُسے کہا: جائے گا : تم آرزو کرو اور مانگو ! وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو رب العزت ہے ، تو اسے کہا: جائے گا : تم آرزو کرو اور مانگو ! ( وہ شخص مانگنا شروع کرے گا ) یہاں تک کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اُس سے کہا: جائے گا : تم نے جو مانگا وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید ملتا ہے ۔ “