مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِيزَانِ وَالصِّرَاطِ وَالْوُرُودِ . باب: میزان ، پل صراط اور ( جہنم پر ) ’’ ورود “ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَدْعُو النَّاسَ [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] بِأَسْمَائِهِمْ سَتْرًا مِنْهُ عَلَى عِبَادِهِ ، وَأَمَّا عِنْدَ الصِّرَاطِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي كُلَّ مُؤْمِنٍ نُورًا [ وَكُلَّ مَؤْمِنَةٍ نُورًا ] ، وَكُلَّ مُنَافِقٍ نُورًا ، فَإِذَا اسْتَوَوْا عَلَى الصِّرَاطِ سَلَبَ اللَّهُ نُورَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ ، وَقَالَ الْمُؤْمِنُونَ : رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا ، فَلَا يَذْكُرُ عِنْدَ ذَلِكَ أَحَدٌ أَحَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ : أَبُو حُذَيْفَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے ناموں کے حوالے سے بلائے گا اور یہ اس کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے پردے کے ساتھ ہو گا لیکن جہاں تک پل صراط کے پاس کا معاملہ ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ ہر مومن مرد کو نور عطا کرے گا اور ہر مومن عورت کو نور عطا کرے گا اور ہر منافق کو نور عطا کرے گا ، لیکن جب وہ لوگ پل صراط پر آ جائیں گے تو اللہ تعالی منافق مردوں اور منافق عورتوں کا نور سلب کر لے گا ، تو منافقین یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور میں سے کچھ حاصل کر لیں ۔ “ تو مومنین یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اس وقت کوئی کسی کا ذکر نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن بشر ابوحذیفہ ہے اور وہ متروک ہے ۔