حدیث نمبر: 18389
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدًا لَا ذَنْبَ لَهُ فَيَقُولُ : بِأَيِّ الْأَمْرَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَجْزِيَكَ ؟ بِعَمَلِكَ أَوْ بِنِعْمَتِي عِنْدَكَ ؟ قَالَ : رَبِّ ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَعْصِكَ . قَالَ : خُذُوا عَبْدِي بِنِعْمَةٍ مِنْ نِعَمِي ، فَلَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا اسْتَغْرَقَتْهَا تِلْكَ النِّعْمَةُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، نِعْمَتَكَ وَرَحْمَتَكَ . فَيَقُولُ : بِنِعْمَتِي وَرَحْمَتِي . وَيُؤْتَى بِعَبْدٍ مُحْسِنٍ فِي نَفْسِهِ لَا يَرَى أَنَّ لَهُ ذَنْبًا . فَيُقَالُ لَهُ : هَلْ كُنْتَ تُوَالِي أَوْلِيَائِي ؟ قَالَ : كُنْتُ مِنَ النَّاسِ سَلْمًا . قَالَ : فَهَلْ كُنْتَ تُعَادِي أَعْدَائِي ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ شَيْءٌ . فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَا يَنَالُ رَحْمَتِي مَنْ لَمْ يُوَالِ أَوْلِيَائِي وَيُعَادِ أَعْدَائِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک ایسے بندے کو زندہ کرے گا ، جس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دو میں سے کون سا معاملہ تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ یہ کہ میں تمہیں تمہارے عمل کی جزا دے دوں ؟ یا جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی تھیں ( اُن کا حساب لے لوں ؟ ) بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری کوئی نافرمانی نہیں کی ، پروردگار فرمائے گا : میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے حساب کے حوالے سے میرے بندے کو پکڑ لو ( یا اس کا حساب لو ) تو وہ ایک نعمت ہی اس کی ساری نیکیوں کو ختم کر دے گی ، بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری نعمت اور تیری رحمت ( کا میں محتاج اور طلبگار ہوں ) تو پروردگار فرمائے گا : میری نعمت اور میری رحمت ( کی بدولت میں تمہیں نجات ملے گی ) پھر ایک بندے کو لایا جائے گا جو یہ سمجھتا ہو گا کہ وہ اچھائی کرنے والا ہے ، اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا ، پروردگار اس سے دریافت کرے گا : کیا تم میرے دوستوں کے ساتھ محبت رکھتے تھے ؟ وہ جواب دے گا : میں لوگوں کے حوالے سے سلامتی میں رہا ( یعنی میں اُن سے لاتعلق رہا ) پروردگار دریافت کرے گا : کیا تم میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی رکھتے تھے ؟ وہ بندہ جواب دے گا : اے میرے پروردگار ! میرے اور کسی شخص کے درمیان کوئی ( دشمنی نہیں تھی ، تو پروردگار فرمائے گا : میری رحمت ایسے شخص کو نصیب نہیں ہو گی جو میرے دوستوں کے ساتھ محبت نہ رکھتا ہو اور میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہ رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے اور اس پر روایات ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18389
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (59/22)»