مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَخْتَصِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ ، وَاللَّهِ مَا يَتَكَلَّمُ لِسَانُهَا وَلَكِنْ يَدَاهَا وَرِجْلَاهَا تَشْهَدَانِ عَلَيْهَا بِمَا كَانَتْ تَعِيبُ لِزَوْجِهَا ، وَتَشْهَدُ يَدَاهُ وَرِجْلَاهُ بِمَا كَانَ يُولِيهَا ، ثُمَّ يُدْعَى الرَّجُلُ وَخَدَمُهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُدْعَى أَهْلُ الْأَسْوَاقِ وَمَا يُوجَدُ ثَمَّ دَوَانِيقُ وَلَا قَرَارِيطُ ، وَلَكِنْ حَسَنَاتُ هَذَا تُدْفَعُ إِلَى هَذَا الَّذِي ظُلِمَ ، وَسَيِّئَاتُ هَذَا الَّذِي ظَلَمَهُ تُوضَعُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَبَّارِينَ فِي مَقَامِعَ مِنْ حَدِيدٍ فَيُقَالُ : أَوْرِدُوهُمْ إِلَى النَّارِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي يَدْخُلُونَهَا ، أَوْ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقَالَ : كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن مقدمہ پیش کرنے والے پہلے افراد ، آدمی اور اس کی بیوی ہوں گے ، اللہ کی قسم ! عورت کی زبان کلام نہیں کرے گی بلکہ اس کے ہاتھ اور اس کے پاؤں کلام کریں گے اور عورت کے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ شوہر کی غیر موجودگی میں کیا کرتی تھی ؟ اور آدمی کے دونوں ہاتھ اور اس کے دونوں پاؤں گواہی دیں گے جس کا وہ ارتکاب کرتا تھا ، پھر آدمی کو اور اس کے خدمت گاروں کو بلایا جائے گا ، ان کے ساتھ بھی اسی طرح ہو گا ، پھر بازار والوں کو بلایا جائے گا اور وہاں جو سکے اور قیراط ہوتے تھے ( انہیں بھی بلایا جائے گا ) اس ( یعنی ظالم ) کی نیکیاں اُس کو دے دی جائیں گی جو مظلوم ہو گا اور مظلوم کی برائیاں اس ظالم کے ذمے ڈال دی جائیں گی ، پھر ظالموں ( یا متکبرین ) کو لوہے کے بنے ہوئے طوقوں میں لایا جائے گا اور یہ کہا: جائے گا : انہیں جہنم پر وارد کرو ! تو اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس میں داخل ہوں گے یا ویسا ہو گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے ہر ایک اس ( جہنم ) پر وارد ہو گا ، یہ تمہارے پروردگار کے ذمہ حتمی و طے شدہ بات ہے ، پھر ہم پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس ( جہنم میں ) گھٹنوں کے بل ( جھکا ہوا ) چھوڑ دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے اور وہ ضعیف ہے ، سعید بن منصور نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : امام مالک اس سے راضی تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔