حدیث نمبر: 18369
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ، ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي ، ثُمَّ سِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ بِالشَّامِ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ : قُلْ لَهُ : جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ : النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - حُفَاةً عُرَاةً ، غُرْلًا بُهْمًا " . ¤ قَالَ : قُلْنَا : وَمَا بُهْمًا ؟ قَالَ : " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ : أَنَا الدَّيَّانُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ ، حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ حَتَّى اللَّطْمَةَ " . قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا ؟ ! قَالَ : " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بِمِصْرَ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، وَحَدِيثُ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ فِي بَابِ جَامِعِ الْبَعْثِ قَبْلَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے ایک صاحب کے بارے میں پتہ چلا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہوئی ہے تو میں نے ایک اونٹ خریدا ، اُس پر پالان باندھا اور پھر ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ طے کر کے ان صاحب کے پاس پہنچا ، یہاں تک کہ شام میں ، میں ان کے پاس آ گیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دربان سے کہا: تم اُن سے کہو کہ دروازے پر جابر موجود ہے ، دربان نے دریافت کیا : وہ جو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر آئے اور انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور میں نے انہیں گلے لگا لیا ، میں نے کہا: مجھے ایک حدیث کے بارے میں یہ پتہ چلا تھا کہ آپ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہوا ہے اور وہ قصاص کے بارے میں ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اس حدیث کو سننے سے پہلے آپ کا انتقال نہ ہو جائے ، یا میرا انتقال نہ ہو جائے ، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں کو برہنہ پاؤں برہنہ جسم ختنے کے بغیر ” بہم “ حالت میں زندہ کرے گا ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : ” بہم “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی ، پھر انہیں ایک منادی پکار کر یہ کہے گا ، اس پکار کو دور کا آدمی بھی اسی طرح سن لے گا جس طرح قریب کا آدمی اسے سن سکے گا ، وہ یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، میں ” دیان “ ( یعنی فیصلہ کرنے والا ، یا اچھے برے کا بدلہ دینے والا ) ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے جبکہ اس نے اہل جنت میں سے کسی سے کوئی حق وصول کرنا ہو ، تو جب تک میں اس کو اس کا حق نہیں دلوا دیتا ( یعنی اس وقت تک یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو ) اور اہل جنت میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو جبکہ اس نے اہل جہنم میں سے کسی سے حق وصول کرنا ہو ، جب تک میں اس کا حق اس دوسرے سے اُسے نہیں دلوا دیتا ، یہاں تک کہ تھپڑ مارنے تک کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا ، ہم نے عرض کی : یہ کیسے ہو گا ؟ جبکہ ہم برہنہ حالت میں ، ختنہ کے بغیر ، کسی چیز کے بغیر ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نیکیوں اور برائیوں ( کے حساب ) سے لین دین ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مصر میں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث اس باب میں گزر چکی ہے جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق روایات کا مجموعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (495/3)»