مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصَّلَاةُ ، فَيَقُولُ : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، وَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصَّدَقَةُ . فَيَقُولُ : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصِّيَامُ . فَيَقُولُ : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنْتَ السَّلَامُ ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ ، وَبِكَ أُعْطِي . قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ : " وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : فَيَقُولُ اللَّهُ : " إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ " . وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی : جب وہ اور ہم مدینہ منورہ میں موجود تھے انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن اعمال آئیں گے ، نماز آئے گی اور عرض کرے گی : اے میرے پروردگار ! میں نماز ہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، صدقہ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں صدقہ ہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، پھر روزہ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں روزہ ہوں ، پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، اسی طرح مختلف اعمال آتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا رہے گا : تم بھلائی پر ہو ، پھر اسلام آئے گا اور عرض کرے گا : اے پروردگار ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے اور میں اسلام ہوں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : بے شک تم بھلائی پر ہو اور تمہاری وجہ سے آج میں گرفت کروں گا اور تمہاری وجہ سے آج میں عطا کروں گا ۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے : جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین ، اسلام ہے ۔ “ ( ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عباد بن راشد ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔