مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْمَطْلَعِ وَشِدَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . باب: مطلع کی ہولناکی ، اور قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ ، وَيَزْدَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تَغْلِي الْقُدُورُ ، يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ تَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن سورج ایک میل کے فاصلے جتنا قریب آ جائے گا اور اس کی تپش اتنی اتنی بڑھ جائے گی یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے اس کی وجہ سے یوں کھول اٹھیں گے جیسے ہنڈیا کھولتی ہے اور لوگ اس صورتحال میں یوں عرق آلود ہوں گے کہ وہ پسینہ ان کے گناہوں کے حوالے سے ہو گا ، وہ ان میں سے کسی کے ٹخنے تک پہنچ رہا ہو گا ، کسی کی پنڈلیوں تک آ رہا ہو گا ، کسی کے وسط تک آ رہا ہو گا ، اور کسی کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف قاسم بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔