مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ . باب: لوگوں کا حشر کیسے کیا جائے گا ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الدَّوَابِّ لِيُوَافُوا الْمَحْشَرَ ، وَيُبْعَثُ صَالِحٌ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَيُبْعَثُ أَبْنَائِي الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى نَاقَتِي الْعَضْبَاءِ ، وَأُبْعَثُ عَلَى الْبُرَاقِ خَطْوُهَا عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهَا ، وَيُبْعَثُ بِلَالٌ عَلَى نَاقَةٍ مِنْ نُوقِ الْجَنَّةِ فَيُنَادِي بِالْأَذَانِ مَحْضًا ، وَبِالشَّهَادَةِ حَقًّا ، حَتَّى إِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ شَهِدَ لَهُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ ، فَقُبِلَتْ مِمَّنْ قُبِلَتْ ، وَرُدَّتْ عَلَى مَنْ رُدَّتْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ : " يُحْشَرُ الْأَنْبِيَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الدَّوَابِّ لِيُوَافُوا مَنْ يَؤُمُّهُمْ لِلْمَحْشَرِ ، وَيُبْعَثُ صَالِحٌ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَأُبْعَثُ عَلَى الْبُرَاقِ ، وَيُبْعَثُ أَبْنَائِي الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى نَاقَتَيْنِ مِنْ نُوقِ الْجَنَّةِ " . وَفِيهَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ كَذَلِكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کا حشر جانوروں پر ہو گا ، تاکہ وہ اپنی قبروں سے نکل کر میدان محشر تک جا سکیں ، سیدنا صالح علیہ السلام اپنی اونٹنی پر جائیں گے ، میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین ، میری اونٹنی عضباء پر جائیں گے ، میں براق پر جاؤں گا ، جس کا ایک قدم حد نگاہ تک ہوتا ہے ، بلال جنت کی ایک اونٹنی پر جائے گا ، وہ محض اذان دے گا ، جو درحقیقت گواہی ہو گی ، یہاں تک کہ جب وہ یہ کہے گا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو پہلے والے اور بعد والے تمام مؤمنین اس بات کی گواہی دیں گے ، تو کسی کی گواہی قبول ہو جائے گی اور کسی کی مسترد ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” قیامت کے دن انبیائے کرام کو مختلف جانوروں پر بٹھایا جائے گا ، تاکہ وہ میدان محشر تک جا سکیں ، سیدنا صالح علیہ السلام کو ان کی اونٹنی پر سوار کیا جائے گا ، مجھے براق پر سوار کیا جائے گا ، میرے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو جنت کی دو اونٹنیوں پر سوار کیا جائے گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوصالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی عثمان بن یحیی بن صالح ہے جو اسی طرح ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔