مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ . باب: لوگوں کا حشر کیسے کیا جائے گا ؟
وَعَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُبْعَثُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، قَدْ أَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ ، وَبَلَغَ شُحُومَ الْآذَانِ " . فَقُلْتُ : يُبْصِرُ بَعْضُنَا بَعْضًا ؟ ! فَقَالَ : " شُغِلَ النَّاسُ ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیده سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) لوگوں کو برہنہ پاؤں ، برہنہ جسم ختنہ کے بغیر حالت میں اُٹھایا جائے گا اور ان کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہو گی جو ان کے کانوں کی لو تک پہنچ رہا ہو گا ۔ “ میں نے کہا: ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کی ( ایک دوسرے کی طرف ) توجہ ہی نہیں ہو گی ، ہر شخص کی یہ حالت ہو گی کہ وہ دوسرے کی طرف متوجہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوعیاش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔