مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ النَّفْخِ فِي الصُّورِ . باب: صور میں پھونک مارا جانا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : " فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ " ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ . " . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَيْفَ نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ” جب صور میں پھونک ماری جائے گی ۔ “ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیسے مطمئن ہو سکتا ہوں ؟ جبکہ قرن ( یعنی صور ) سے متعلق فرشتے نے اپنا منہ قرن کے ساتھ لگایا ہوا ہے ، اپنی پیشانی کو جھکایا ہوا ہے اور وہ اس بات کا منتظر ہے کہ کب اسے حکم ہو اور وہ پھونک مار دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : ہم کیا پڑھیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : ” ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اُن صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے جو کمزور ہے ۔