مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ النَّفْخِ فِي الصُّورِ . باب: صور میں پھونک مارا جانا
عَنْ أَبِي مُرَيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " النَّافِخَانِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ ، وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ " أَوْ قَالَ : " رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ ، وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ أَنْ يَنْفُخَا فِي الصُّورِ فَيَنْفُخَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَلَى الشَّكِّ ، فَإِنْ كَانَ عَنْ أَبِي مُرَيَّةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَإِنْ كَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَهُوَ مُتَّصِلٌ مُسْنَدٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابومریہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پھونک مارنے والے دو فرشتے ، دوسرے آسمان میں ہیں ، ان میں سے ایک کا سر مشرق میں ہے اور پاؤں مغرب میں ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان میں سے ایک کا سر مغرب میں ہے اور پاؤں مشرق میں ہے اور وہ دونوں انتظار کر رہے ہیں کہ انہیں کب صور میں پھونک مارنے کا حکم ہو ، تو وہ اُس میں پھونک مار دیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے شک کے ساتھ نقل کی ہے ، اگر تو یہ ابومریہ کے حوالے سے منقول ہے تو پھر یہ ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اگر یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تو پھر یہ متصل اور مسند ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔