مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، مَا رَأَى مُنْخُلًا ، وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى أَنْ قُبِضَ . قُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : أُفٍّ ، أُفٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ رُومَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھنا ہوا آٹا دیکھا ، اور آپ نے کبھی چھنے ہوئے آنے کی روٹی نہیں کھائی ، جب سے اللہ تعالی نے آپ کو مبعوث کیا تھا اُس وقت سے لے کر آپ کے وصال تک ( ایسا کبھی نہیں ہوا ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم یہ کہتے تھے : اف اف ( یعنی ان میں پھونک مار لیتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رومان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔